در حقیقت شوگر کوئی مرض نہیں اگر مرض ہو تو علاج بھی ہو طب میں مرض کی تعریف یہ ہے کہ جسم انسانی میں کسی ایسی غیر طبعی کیفیت کا پیدا ہو ناجو عام طور پر جسم میں نہ ہو مرض کہلاتی ہے مثلا درد ز کام بخار پہلے نہیں تھا پیدا ہوا علاج ہو گیا کینسر پہلے نہیں تھا علاج ہو گیا شوگر کے علاوہ جتنے امراض کے نام لو اُن کیفیت اُن کے اثرات علامات پہلے جسم میں نہیں تھیں کسی طریقے محسوس ہوئیں تشخیص ہوئی علاج ہو گیا شوگر کے علاوہ تقریبا ہر مرض کا شافی علاج موجود ہے اطباء یا ڈاکٹر یا میڈیکل سائنس کسی نہ کسی طریقے سے قابو پالیتی ہے لیکن شوگرکا علاج کسی بھی طریقے سے علاج ممکن نہ ہو سکتا ہے اور نہ کبھی ہو گا شوگر وہ کیفیت ہے جس کا جسم میں پیدا ہونا ضروری ہے اگر شوگر کی مقررہ مقدار جسم میں پیدا نہ ہو جسم کا نظام ہضم بُری طرح متاثر ہوتا ہے شوگر کی کمی سے بے تحاشا قسم کی پیچید گیاں جنم لیتی ہیں جیسے ہی جسم میں شوگر کا لیول یا مقدار کم ہو معالج اُسے فوری طور پر مٹھاس یا شوگر پیدا کر نے ادویات کے استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں ۔ کیا کبھی کسی دیگر مرض مثلا زکام بخار درد خارش کینسر وغیرہ کو پیدا کرنے کے لیے کو ئی مشورہ یا دوا دی گئی ؟؟؟ جس کیفیت کا پیداکرنا ضروری ہو وہ مرض کی تعریف میں نہیں آتی جس سبب سے نارمل شو گر پیدا ہوتی ہے اُسی سبب سے زیادہ پیدا ہوتی ہے وہ ہے تیزابیت شوگر کو ختم کا دعویٰ کرنے والے معالجین احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں یا وہ اس فن سے ہر گز واقف نہ ہیں اس لیے شوگر کو مرض کہنا طبی اصولوں کے خلاف ہے یہ کوئی مرض نہ ہے جب مرض نہ ہے تو خاتمہ ممکن نہ ہے صرف نارمل کرنا علاج ہے۔