Shopping Cart (0)

Your cart is currently empty.

تجربہ (Experiment)

پلاسٹک کا اس میں اس میں کچھ مقدار معدہ میں پایا جانے والا کیمیکل(ہائیڈرو کلورک ایسڈHCL-) ڈال کر روز مرہ کھائی جانے والی غذا میں سے پروٹین پرمشتمل غذا مثلاً گوشت روٹی چاول نان وغیرہ ڈال دیں تھوڑی دیر بعد چیک کریں یا لیبارٹری ٹیسٹ کروائیں تو یہ پروٹین گلائی کو جن یا شوگر میں بدل چکے ہوں گے کیونکہ جب تک غذا گلائی کو جن میں تبدیل نہیں ہوگی تب تک ہضم کے قابل نہ ہوگی ۔ جس قدر تیزا بیت کی مقدار گلاس میں زیادہ ہوگی اسی قدر تیزی سے یہ غذا گلوکوز میں تبدیل ہو جائے گی جس قدر تیزابیت کی مقدار کم ہوگی اسی قدر رگلو کوز بننے کا عمل سست ہوگا۔ اب جس برتن میں تیزاب اور پروٹین ڈال کر گلو کوز بننے کا مشاہدہ کیا گیا ہے اسی برتن میں اصلی دیسی گھی ،لکھن، شہد، نمک روغن بادام ڈال دیا جائے تو شوگر اور پروٹین کے ملاپ سے شوگر بننے کا عمل ست اور کمزور ہو جائے گا جس قدر اصل روغنیات کی مقدار زیادہ ہوگی اسی قدر شوگر یا گلوکوز بننے کا عمل کم ہو گا اب اگر اسی محلول میں بناسپتی کوکنگ آئل وغیرہ کے مرکبات ڈال دیئے جائیں تو شوگر بنے کا عمل کم تو کیا ہونا ہے بلکہ شدت اختیار کر جائےگا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شوگر بنے کا عمل نارمل کرنا ہے تو دافع تیزابیت، پاکیزہ اور خالص قدرتی غذاؤں اور قدرتی بنا تاتی اور مغزیاتی مرکبات سے ہی شوگر کا سائنسی اور فطری علاج ممکن ہے ابھی تک کوئی ایسا سائنسی اصول سامنے نہیں آیا جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ شوگر تیزابیت اور پروٹین کے علاوہ کسی دیگر عمل سے بھی بنتی ہے۔ کیونکہ تمام انسانی جسم کے مسلز یا عضلات پروٹینز کی پیداوار ہیں اور تیزاب براہ راست مسلز پر اثر انداز ہو کر پورے جسم کو گلوکوز میں تبدیل کر کے تمام جسمانی نظام بے کار کر دیتا ہے اور تمام جسمانی اور جنسی قو تیں ہمیشہ کیلئے بیکار ہو جاتی ہیں۔ غیر قدرتی دواؤں اور غذاؤں کے سہارے سے صحت کبھی بھی بحال نہیں ہوتی تمام تر وضاحت مشاہدات تجربات کو بیان کرنے کا مقصد شوگر کے بارے میں پائے جانے والے غلط مفروضات اور بدگمانیاں دور کرنا ہے اور شوگر میں مبتلا فرد یقین اور اعتماد کے ساتھ بیان کردہ اصول علاج پر عمل کر کے صحت یاب ہو سکے یادر کھیں کبھی بھی کسی بھی کرشماتی دو ا مثلا و یکسین انجیکشن ، گولیاں، سفوف و غیره سے کبھی بھی شوگر کا علاج ممکن نا ہو پائے گا کیونکہ شوگر ایک علامت ہے مرض نہیں ۔

Product
Verified