جب سے اس نامراد مرض کی علامات انسانی جسم میں ظاہر ہوئی ہیں تب سے اس پر طبی ماہرین کی تحقیق جاری ہے۔ طبی ماہرین اب تک صرف اس مرض کے ہونے کی ایک بڑی وجہ تلاش کرنے میں کامیاب ہو سکے ہیں کہ شوگر صرف مٹھاس یعنی گڑ شکر کی پیداوار ہے یا تفکرات کی وجہ سے بنتی ہے۔ دوسری یہ تحقیق کہ لبلبہ کی خرابی سے انسولین کی پیدائش میں کمی آ جاتی ہے۔ جس سے شوگر کنٹرول نہیں ہوتی یعنی انسولین اس کا علاج ہے جو کہ لبلبہ کی خرابی کی وجہ سے انسولین کی پیدائش متاثر ہوتی ہے۔ میں لبلبہ کی خرابی اور انسولین کے متعلق وضاحت کر چکا ہوں کہ انسولین علاج ضرور ہے لیکن لبلبہ کبھی خراب نہیں ہوتا۔ یہ بھی ثاپت کروں گا کہ شوگر کا مٹھاس سے کوئی تعلق نہ ہے بلکہ مٹھاس ہی اس کا حتمی اور شافعی علاج ہے۔ جیسے ہی اس نامراد مرض کی علامات مریض پر ظاہرہوتی ہیں تو ہر قسم کا معالج فوری طور پر مٹھاس یا میٹھے سے بننے والی اشیا کو مریض کو سختی سے بند کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اگر آپ نے مزید کائی مٹھاس لی تو شوگر کے اثرات بے قابو ہو جائیں گے۔ اب جس شخص کو شوگر کا مرض لگا ہے وہ میٹھے کو زہر تصور کرتے ہوئے اپنے اوپر اس کو حرام سمجھ کر بند کر دیتا ہے لیکن پھر بھی یہ نامراد مرض اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی بلکہ اس کے اثرات مزید بت قابو ہو جاتے ہیں۔ اس لئے طبی ماہرین کی یہ کاوش یا تحقیق بے سود ہو جاتی کی کہ شوگر مٹھاس کی پیداوار ہے۔ اگر مٹھاس باعث شوگر ہے تومٹھاس مکمل بند کرکے شوگر ختم کیوں نہیں ہوتی؟ 1. جب بھی کوئی کراری یا پروٹین پر مشتمل غذا جو کہ ایک جوان آدمی کی غذا ہوتی ہے ۔ جیسے ہی منہ میں ڈال کر چبائی جاتی ہے تو وہ چباتے ہی منہ میں ہی مٹھاس کی شکل اختیار کر جاتی ہے۔ یعنی گلوکوز کی شکل اختیار کرتے ہوئے جسم میں داخل ہوتی ہے اور جسم میں خارج ہونے تک میٹھی ہی رہتی ہے۔ 2. شوگر کا مریض جس نے شوگر یا مٹھاس کو اپنے اوپر حرام قرار دے کر بند کر رکھا ہے جب بھی وہ پیشاب یا پاخانہ کرے گا تو اس پر چیونٹیاں جمع ہو جائیں گی۔ اگرچہ اس نے مٹھاس تو لی ہی نہیں ۔ پھر ایساکیوں ہوا؟ کیا شوگر کے متاثرہ فرد کے اندر کوئی شوگر فیکٹری کام کر رہی ہے؟ ایک نارمل انسان جس کو شوگر نہ ہے اس کے پیشاب اور پاخانہ پر چیونٹیاں کیوں نہیں آتیں؟ 3. مٹھاس کھانے سے شوگر کیوں بڑھتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ غذا جب تک گلوکوز کی شکل اختیار نہ کرے اس کے مفید اجزا خون میں جذب نہ ہو سکتے ہیں۔ فرض کریں شوگر کے ایک متاثرہ مریض کے خون میں 2 گرام ہے جو پروٹین اور تیزابیت کے رد عمل سے بنی ہے۔ دوسری مٹھاس یا گلوکوز 2 گرام ہم نے ڈائریکٹ لی ہے۔ اس کو تیزابیت یا پروٹین کے رد عمل سے کویہ تعلق نہیں ہوتا۔ وہ فوری ہی خون میں ڈائریکٹ شامل ہو کر خون میں شوگر کا لیول بڑھا دیتی ہے۔ جس سے مریض یہ سمجھتا ہے کہ شوگر کھانے سے شوگر لیول فوری طور پر بڑھا ہے ، اس لئے مٹھاس کو بند رکھا جائے جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ شوگر تیزابیت کےرد عمل سے بنے یا ڈائریکٹ لی جائے ، اس کو ضذب ہونے کے لئے انسولین کی ہی ضرورت ہوگی۔ جبکہ بچوں کی ساری کی ساری غذا مثلا دودھ، مکھن، فرنی، دلیہ، شہد وغیرہ پر مشتمل ہوتی ہے لیکن بچوں میں انسولین (حرارت غریزی)کی بہتات ہوتی ہے ۔ جس کی وجہ سے کھائی جانے والی تمام مٹھاس آرام سے ہضم ہو جاتی ہے اور شوگر کے اثرات جسم پر نہ ہوتے ہیں۔ 4. شوگر طبعی ہو یا غیر طبعی ، اس کے استعمال سے جسم میں رطوبت بڑھتی ہے ، جسم کمزوری محسوس کرتا ہے، پیشاب زیادہ آتا ہے ، پاخانہ پتلہ آتا ہے جیسا کہ بچوں میں ہوتا ہے۔ اس لئے ہر حال میں شوگر کے مریض کو مٹھاس کچھ عرصہ کے لئے بند کی جاتی ہے لیکن یہ ہمارے أصول کے مطابق بند ہو گی۔ کچھ عرصہ بعد ہمیشہ کے لئے یہ پابندی ہٹا لی جاتی ہے۔