Shopping Cart (0)

Your cart is currently empty.

شوگر کی اقسام(Types of Suger)

میں دعوٰی بلکہ بحکم اللہ چیلنج سے یہ بات کہتا ہوں کہ شوگر نہ تو کوئی مرض ہے اور نہ ہی اس کا کوئی علاج ہے۔ جب یہ کوئی مرض ہی نہیں ہے تو اس کی کوئی قسم یا اقسام نہ ہیں۔ چونکہ جدید دنیا اس کو بہت بڑا مرض قرار دیتی ہے تو اس کی لا محالہ کئی اقسام بھی بیان کرتی ہے۔ یاد رکھیں جب بھی کوئی مرض پیدا ہوتا ہے تو اس کے اثرات پہلے بالکل خفیف ہوتے ہیں۔ جب اس کی علامات یا مرض کا فطری طریقے سے علاج ہو جائے تو قدرتی امر ہے کہ وہ کنٹرول ہو جاتا ہے یا ختم ہو جاتا ہے لیکن جب کسی نا تجربہ کاری سے اس مرض کی صحیح تشخیص و علاج نہ ہو تو دن بدن اس کے اثرات جسم و خون میں بڑھتے جائیں گے، تو اس مرض کو کئی اقسام میں تبدیل کردیا جاتا ہے اور اس کے علاج کے لیے بھی بمطابق شدت دواؤں کا تعین کیا جاتا ہے۔ اس طرح جب شوگر کے اثرات پہلی دفعہ جسم یا خون میں پیدا ہوتے ہیں تو کم شدت والی شوگرکو A ٹائپ شوگر اور جب اس کی تباہ کاری عروج پر پہنچ جاتی ہے تو اس کو B ٹائپ شوگر کا درجہ دے کر علاج کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔چونکہ میڈیکل سائنس ابھی تک کسی حتمی تحقیق پر نہیں پہنچی کہ یقین سے کہہ سکےکہ شوگر پیدا ہونے کی اصل وجہ کیا ہے۔ جب اصل وجہ کا پتا نہ چلے تو علاج بھی غیر سائنسی اور اندازوں پر مبنی ہوگا جو کہ غیر علمی اور غیر سائنسی ہوگا۔ علاج میں ہمیشہ ان عوامل کا کا سدباب کیا جاتا ہے ہے جن عوامل سے مرض پیدا ہو تو وہ منفی عمل بذریعہ دوا یا غذا جسم سے دور کردیا جاتا ہے۔ شوگر پیدا ہونے کی تمام وجوہات کو بار بار سائنسی اور فطری انداز میں سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ شوگر پروٹین اور تزابیت کی پیداوار ہے۔ تیزابیت کی زیادتی کی وجہ سے سے جب غذا وقت سے پہلے ہی ہضم ہو کر کر جذب کے لیے انتٹرویو ںمیں پہنچتی ہے تو وہاں پر قدرتی انسولین کی کمی ہوتی ہے اوریہ غذا کچی ہی پاخانے کی صورت میں باہر نکل جاتی ہے تو پہلے اس کے اثرات خفیف ہوتے ہیں ۔یونہی اس کو مرض سمجھ کر علاج شروع کیا جاتا ہے تو اس کے اثرات دن بدن شدت اختیار کر جاتے ہیں کیونکہ شوگر ختم کرنے والی ادویات چاہے وہ ہربل ہوں ، ہومیوپیتھی ہوں یا ایلوپیتھک سب کی سب تیزابیت یا کھٹاس پر مشتمل ہوتی ہیں کیونکہ کم علمی کے باعث شوگر کو مٹھاس پرفرض کر لیا گیا ہے اور کھٹاس جیسے جامن، کوڑ ،لیموں، پنیر وغیرہ کے مرکبات یا ان جیسے اثرات پر مشتمل دیگر دوائیں دی جاتی ہیں جن سے دن بدن شوگر کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ شوگر پیدا ہونے کی وجہ بھی تیزابیت اور علاج بھی تیزابی اثرات رکھنے والی کھٹی ادویات سے کرنے پر خون غلاظت اور تیزابیت سے بھر جاتا ہے۔ جس سے شدید جوڑوں کے امراض ،رسولیاں ، بے خوابی ،جگر اور معدہ کی بے انتہا بربادی جیسے امراض پیدا ہوتے ہیں اور جسم کے کئی اجزاء کاٹنے پڑ جاتے ہی۔ں تب یہ مرض بالکل لاعلاج ہوجا تا اور اس بی ٹائپ شوگر کا درجہ دے دیا جاتا ہے۔ وجہ صرف ایک ہے کہ غذاؤں سے تزابیت دور کر دی جائے شوگر ختم ہوجائے گی۔ شوگر کا علاج کھٹاس سے نہیں مٹھاس بڑھا کر ہے۔ یہ دراصل قدرت کی طرف سے دیا جانے والا ایک شاہکارقدرتی کیمیکل ہے لیکن بد قسمتی سےطب سے وابستہ افراد یا میڈیکل سائنس سے متعلقین بھی ابھی تک اس کے اصل حقائق اور خاصیت سے واقف نہ ہو سکے۔اس کا جسم میں ہونا یا پیدا ہونا قدرت کا بہت بڑا عطیہ اور راز ہے۔ اس پر اگر کچھ مزید تحقیق کر لی جائے یا ہمیں حکومت اس پر قدرے مزید سائنٹیفک انداز میں تحقیق کرنے کا موقع دےتو عمر کو طویل کرنے کا بہت بڑا عمل سائنسی طریقے سے ہاتھ آ سکتا ہے۔ بیشک زندگی اور موت اللہ کریم کے ہاتھ میں ہے۔ سائنس کی تحقیق کے مطابق یہ وہ قدرتی کیمیکل ہے جو غذا یا گلوکوز ہضم ہونے کے لئے آنتڑیوں میں پہنچتی ہے تو انسولین کے اجزا گلوکوز کے جوہر کو خون میں جذب کرتی ہے۔ گلوکوز کے جوہر سے ہی خون کے اجزاء بنتے ہیں جس سے جسم کے مختلف اعضا ڈویلپ ہوتے ہیں۔ بچے جوان ہوتے ہیں ، بڑوں کی جسمانی طاقت قائم رکھتی ہے۔ انسولین حرارت غریزی کا دوسرا نام ہے جو قدرت کا انمول عطیہ ہے۔

Product
Verified