Shopping Cart (0)

Your cart is currently empty.

شوگر بننے کا عمل میڈیکل سائنس کی روشنی میں

غذا گلائیکو جن میں تبدیل ہونے کے بعد ہضم کے لیے آنتوں میں پہنچتی ہے تو یہاں پر ہضم کا عمل وقوع پذیر ہوتا ہے ۔ یاد رکھو ہضم کا عمل معدے میں نہیں بلکہ آنتوں میں مکمل ہوتا ہے۔جب غذا آنتوں میں پہنچتی ہے تو لبلبہ کی طرف سے خارج کی جانے والی انسولین کی خاص مقدار گلائیکوجن پر اثر انداز ہوکر اچھے اجزاء یا جوہر غذا کو بذریعہ جگر خون میں شامل کر دیتی ہے۔ بقیہ غذا فضلہ کی شکل میں خارج ہو جاتی ہے ۔یہی سائنسی اصول ہے۔ دنیا میں جب بھی میڈیکل سائنس میں ریسرچ کی جاتی ہے تو ہمیشہ ایک جوان مرد کے جسم کو سامنے رکھ کر اس کے افعال، activities ، خواص اور effectiveness کا جائزہ لیا جاتا ہے نہ کہ بچے، بوڑھے یا خواتین پر تجربات کیے جاتے ہیں ۔ایک جوان مرد کر کالا بلا کم ازکم چھ گھنٹے سے قبل جسم کی دبئی ضرورت کے مطابق انسولین پیدا نہیں کر سکتا جبکہ زیادہ عمر کے حضرات کے لیے تو اس سے بھی زیادہ وقت لیتا ہے انسولین پیدا کرنے میں بچوں کی انسولین پیدا ہونے کاعمل کافی مختلف ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو غذا آج کے دور میں استعمال کی جا رہی ہیں کیا وہ جسم کے لیے مفید ہے تو اس کا جواب پانچ سو فیصد نفی میں ہے بالفرض غلیظ زہریلی غذاؤں سے بننے والی گلائیکوجن کو اگر انسولین کے ذریعے خون میں جذب بھی کر لیا جائے تو پھر بھی وہ جسم کے لیے باعث فساد و امراض ہیں گلائیکوجن اگر قدرتی اورخالص ہوگا تو اس کے مثبت اثرات جسم پر میں ہوگی ورنہ نتیجہ صفر ہوگا۔ جیسے آج کل مصنوعی انسولین سے گلائیکوجن جذب کروا کر جسم انسانی سے خوفناک کھیل کھیلا جارہا ہے مقصد خزاں تو کب پورا ہوگا جب غذا قدرتی اجزا پر مشتمل ہو اور جسم کی ضرورت کے مطابق ہو گی یہ تو ہوگا جب غذا کم ازکم 24 گھنٹے کے بعد خارج ہو جبکہ تزابیت کی زیادتی کے باعث کچی ہیں گلائیکوجن کی شکل میں خارج ہوکر جسم کو برباد کرتی جا رہی ہے غذا صرف اس وقت ہیں جسم میں رکھ سکتی ہے جب تزابی تکلیف کو بزریع دافع تزابیت غذاؤں کے ذریعے کنٹرول کیا جائے گا ورنہ شوگر کا علاج ممکن نہ ہے۔اور یہی شوگر پیدا ہونے جسم کو لگنے کا سائنسی اصول ہے۔

Product
Verified