بے شک اللہ ہی شفا دینے والا ہے جب وہ مرض دیتا ہے تو شفا بھی دیتا ہے۔ لیکن اس قرآنی اشارہ کو صرف جسمانی مرض تسلیم کر لینا ہی مناسب نہ ہے کہ مرض اللہ ہی بھیجتا ہےلیکن آج دنیا میں جس قدر امراض کا پروپیگنڈ ا اور واویلا بلند ہے کہ ہر بندہ تقریبا بیمار ہے یاوہ صحت کے اصولوں کی پیروی کر کے خود کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں مصروف ہے اور اُسے ہر وقت صحت کے اچانک خراب ہو جانے کا ہر وقت اندیشہ لگا رہتا ہے گویا کہ جدید دور کا انسان صحت کے متعلق بے حد فکر مندہے اور جدید دور کے صحت سے متعلق پروپیگنڈا سے حد درجہ متاثر ہے اور خود کو تباہ کرنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ جدید میڈیکل سائنس ابھی تک ایسا کوئی اصول وضع کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہےکہ یہ عمل کرتے جاؤ اور صحت مند رہو گے اور نہ ہی ابھی تک کوئی ایسا فارمولہ وضع کرنے میں کامیاب ہو سکی ہے کہ یہ دوا لو فلاں مرض زندگی بھر کے لیے ختم ہو جائے گا جبکہ ایسا ہونا ممکن ہی نہ ہے ارتقا ئی طور پر یا فطری طور پر بیماریوں اور انسان کا آپس میں کوئی تعلق ہی نہ ہے۔ اگر کوئی تعلق ہو تا تو قرآن پاک میں ضرور کسی بیماری کا صاف ذکر ہو تا علاج کا شعور یا کوئی حل موجود ہوتا جبکہ قرآن میں کسی جسمانی بیماری کا اشارہ یا ذکر موجود نہ ہے۔ تاجدار مدینہ کا کوئی صحابی حکیم نہ ہے ۔ طب نبوی ﷺ جسےہم جیسے دوکان دار ناعاقبت اندیش دنیا دار اپنی روزی چمکانے کے لئے ہائی لائٹ کرتے ہیں کوئی مخصوص نسخہ منسوب نہ ہے بلکہ حیات نبویﷺمیں کوئی معالج آپ کے پاس آیا جب کوئی بیمار نہ ملا تور سول پاک ﷺ سے تذکرہ کیا تو آپ نےتمام امراض کا علاج دو الفاظ می بتادیا کہ میرے اصحاب بغیر بھوک کے نہیں کھاتے جب کھاتے ہیں کچھ بھوک باقی ہوتی ہے تو کھانا بند کر دیتے ہیں تو بیماری کا سوال ہی پیدا نہ ہو تا ہے صرف سوال یہ بقایا ہے کہ جب کھاؤ تو غذا قدرتی اور خالص ہو تو امراض پیدا ہونے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا ہے احادیث نبوی بابت صحت سے ہدایات ہیں کہ فلاں غذا لو شہد لو حجامہ کراؤ جیسے نسخے کے ہم جیسے حکیم یا احمق متلاشی ہیں ان کا ذات پاک صلی اللہ علم سے قطعی کوئی تعلق نہ ہے جبکہ ہمارے انبیا جن کی تعداد کم و بیش ایک لاکھ چوہیں ہزار ہے کسی بھی سے حکمت منسوب نہ ہے حضرت لقمان حکیم نہ تھے دانا تھے چلو حضرت لقمان کو حکیم فرض کر لو تو باقی ایک کم ایک لاکھ چو میں ہزار پاک ہستیوں نے حکمت کیوں اختیار نہ کی ؟؟؟ تاریخ طب سے لمبے چوڑے شفا خانوں کا ذکر کہیں نہ ملتا ہے تاریخ یورپ میں بھی آج کے طرح ہسپتالوں اور اطباکرام کا قطعی کوئی ذکر نہ ہے یاد رکھو یہ بیماریاں خود پیدا کر دہ ہیں یہ منجانب اللہ نہ ہیں اگر منجانب اللہ ہوتی تو آج سے صرف 50 سال قبل ہی کیوں نہ ہو تیں جبکہ دنیا تو اربوں سالوں سے موجود ہے ۔ غذا کے نام پر ہم زہر کھا رہے ہیں جن کے استعمال سے صحت کا قطعی کوئی جواز نہ ہے تمام کی تمام غذائیں مصنوعی اور کیمیکل پر مشتمل ہیں جن کے بے دریخ استعمال سے جسم انسانی مفلوج اور تباہ ہو کے رہ گیا ہے اور علاج بھی تمام کا تمام کیمیکل پر مشتمل ہے اصولی طور پر زندگی کا کوئی جواز نہ ہے بس رب کریم ہے معلوم تاریخ طب اُٹھا کر دیکھیں تو جو جو امراض گذشتہ دور میں پیدا ہوئے تو اُس وقت معالجین نے اُن کا علاج بھی کیا مثلاً سرطان، چیچک، زکام ، بخار ، ٹی بی جیسے امراض کے لئے لاجواب نسخے اور ہدایات پرانی طبی کتب میں موجود ہیں جبکہ موجودہ دور کی نامراد مرض شوگر کے لئے ایک بھی نسخہ موجود نہ ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ مرض تاریخی نہ ہے بلکہ جدید دور کی پیداوار ہے جدید دور میں مصنوعی غذاؤں کے انداز بدلے ہیں تو امراض کے بھی ایسے ایسے نئے نام آئے ہیں جن کا ماضی میں تصور بھی نہ تھا تاریخی طور پر شوگر کی پیدائش ممکن ہی نہ تھی جو عوامل شوگر پیدا کرنے کے لیے ضروری ہیں یا لازمی جز ہیں وہ تاریخی طور پر پیدا ہی نہ ہو سکتے تھے تو شوگر کیوں کر ہوتی یہ جدید دور کا مرض ہے گو کہ یہ کوئی مرض نہ ہے جس کی مزید سائنسی انداز میں تفصیل موجود ہے بلکہ عفریت ہے اور یہ عفریت خود پیدا کر وہ اور پالتو ہے اور اس سے % 100 نجات ممکن ہے یاد رکھیے زندگی کی بقا کا دارو مدار خون کی صحیح پیدائش سے دنیا کی قیمتی سے قیمتی دوا کبھی بھی خون پیدا نہ کرتی ہے خون ہمیشہ خالص اور قدرتی غذا سے بنتا ہے جسم انسانی کے لیے مفید غذائیں حیوانی غذا دودھ گھی مکھن گوشت شہد و اناج سے یا موسمی پھل جن کا مزاج انسانی مزاج کے قریب تر ہے جبکہ سبزیاں تو جانورں کا کھانا ہیں ان میں غذائیت برائے نام ہوتی ہیں یا درکھیں حیوانی غذائیں استعمال کرنے والوں نے ہی طویل عمریں پائی ہیں آج کل کھائی جانے والی مصنوعی غذاؤں سے خون نہیں بنتا بلکہ غلیظ اور فاسد مادے بنتے ہیں جس سے جسم انسانی لا تعداد بیماریوں کا مجموعہ بن چکا ہے صرف دوا سے علاج کرنا صحت کی تذلیل ہے علاج کی کتنی اقسام ہیں علاج بل غذا علاج بل رنگ علاج بل خوشبو نفسیاتی دُعا سے یا روحانی علاج ۔ یہ ہمارے اور روزمرہ کے مشاہدات ہیں اور ان کی افادیت مسلمہ ہے مثلاً – کوئی کامل عامل کسی مرض کا دم کر دے تو وہ مرض تاحیات ہوتی ہی نہ ہے اسی طرح کالا رنگ سوگ اور موت کے وقت پہنا جاتا ہے اور موت جیسی کیفیت پیدا کرتا ہے کالا رنگ پہنے سے زندگی کے تمام جذبے ماند پڑ جاتے ہیں سُرخ رنگ دُلہنوں کا پہنا وا ہے سرخ رنگ سے شہوت Sex بھڑک اٹھتا ہے جن خواتین کو جنسی بے رغبتی ہو سرخ رنگ کے کپڑوں سے مسئلہ حل کر سکتی ہیں سفید اور سبز رنگ نظر اور جسم کو سکون دیتے ہیں اور فوری اثر پذیر ہیں اس طرح علاج بذریعہ نفسیات یا نفسیاتی عوامل بہت بُری طرح جسم انسانی پر اثر انداز ہوتے ہیں مثلاً کسی لو بلڈ پریشر والے مریض کے کام میں کوئی مشتعل کرنے والی بات کرنے سے وہ ایسے بھڑ کے گا کہ اُس کی جان High B.P سے نکلے گی یا اُسے برین ہیمرج بھی ہو سکتا ہے اسی طرح کسی ناگہانی وفات کے گہرے صدمے سے کسی رشتہ دار کی ساتھ ہی موت واقع ہونا ہمارے روز مرہ کے مشاہدات ہیں کسی بھی پریشانی کے عالم میں سب سے پہلے انسان کی بھوک متاثر ہو گی جب بھوک نہ ہو گی جسم انسان خود بخود بیمار ہو جائیگا چاہے اُسے سونے کے نوالے یا قیمتی سے قیمتی دوائیں دے دو ، وہ کبھی بھی ٹھیک نہ ہو گا جب تک اُسکا اصل مسئلہ حل نہ ہو ۔ایسی کیفیات جانوروں میں نہیں ہیں