جدید طبی ماہرین کی بیان کردہ تمام علامات، جن کو وہ مرض بتاتے ہیں، کہ شوگر پیدا ہونے سے یہ امراض پیدا ہوتی ہیں۔ تو اس کو تفصیل سے بیان کرنے میں کئی صفحات درکار ہوں گے مثلاًکسی کو کمزوری ہو، پیٹ خراب ہو ،جوڑوں میں درد ہو ، جگر معدہ کے امراض ہو ں، بینائی کمزور ہو، تو سب سے پہلے شوگر ٹیسٹ کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ یاد رکھیں شوگر پیدا ہونے سے کوئی مرض پیدا نہیں ہوتا۔ یہ تمام علامات جو بیان کی گئی ہیں ان کے پیدا ہونے سے قطعی گمان نہیں کیا جا سکتاکہ علامات یا علامت پیدا ہونے سے آپ کو یقینی طور پر شوگر ہےیا شوگر ہوگی ۔ ایسے تمام امراض یا علامات شوگر کے مابعد اثرات ہیں۔شوگر ہونےکی صرف ایک اور حتمی علامت ہے۔ جس دن وہ لگاتار پیدا ہوجائے تو شوگر کی یقینی علامت ہے ۔وہ علامت یہ ہے کہ غذا جسم سے چوبیس گھنٹہ سے پہلے خارج ہو ، پاخانہ غیر منہضم ہو پاخانہ کی رنگت تقریباً صاف یا سفید ہو،قوام میں پتلا ہو، قبض بھی نہ ہو اور اجابت بھی کھل کر نہ آئے اور یہ عمل مسلسل ہوتو شوگر یقینی ہے چیک کرا لیں۔ اس عمل کی قدرتی وجہ یہ ہے جسم میں تیزابیت حد سے تجاوز کر چکی ہے ۔قدرتی وقت سے پہلےغذا گلوکوز میں تبدیل ہو کر جذب ہونے کے لئے انتڑیوں میں آ جاتی ہے،وہاں پر انسولین کی مقدار کم ہوتی ہے، جذب کا عمل مکمل نہیں ہوتا اور غذا گلوکوز کی شکل میں باہر نکل جاتی ہے اور جسم متواتر کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے۔