Shopping Cart (0)

Your cart is currently empty.

لبلبہ کبھی خراب نہیں ہوتا

جسم انسانی میں پیدا شدہ یہ عضو غذا کو ختم کرنے کیلئے قدرتی انسولین پیدا کرتا ہے۔ جب غذا معدہ میں تیزابی اثر سے گلائی کو جن (شوگر) میں تبدیل ہو کر ہضم کیلئے آنتوں میں پہنچتی ہے تو اب یہ قدرتی انسولین خارج کرتا ہے جس سے حلیل شدہ غذا سے جو ہر غذا جسم کا حصہ بن جاتا ہے اور بقیہ غذا فضلہ کی شکل میں جسم سے خارج ہو جاتی ہے فطری تحقیقات اور مشاہدات کے مطابق غذا کو کم از کم 24 گھنٹے جسم کے اندر رہنا چاہیے ایک کامل صحت مند فرد کو بھوک 6 گھنٹہ کے بعد لگتی ہے اور 24 گھنٹہ کے بعد فضلات کی شکل میں خارج ہو جاتی ہے اتنی دیر میں جسم غذا سے جو ہر غذا حاصل کر لیتا ہے۔ یہ %100 سائنسی اصول اور فطری مشاہدہ ہے کہ بھوک 6 گھنٹے کے بعد لگے اور پاخانہ 24 گھنٹے کے بعد آئے ۔ تو شوگر ہرگز ہر گز ہو ہی نہیں سکتی فرض کریں معدہ میں تیزابیت کی مقدار قدرتی لیول سے زیادہ ہے جس کی وجہ سے غذا 6 گھنٹہ کی بجائے 3 گھنٹہ میں گلوکوز میں تبدیل ہو کر یا ہضم ہو کر انتڑیوں میں پہنچ جائے تو وہاں پر لبلبہ میں قدرتی انسولین کی کمی ہوگی اور یہ غذا جسم کو کوئی فائدہ پہنچائے بغیر کچی ہی کلوکوز یا شوگر کی شکل میں جسم سے خارج ہو جائے گی جس کی وجہ سے شوگر کے مریض کو بار بار بھوک اور پیاس کا احساس ہوتا ہے جسم کو جو ہر غذا نہیں ملتا اور تمام جسمانی اور جنسی قوتیں بتدریج زائل ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور لیبارٹری ٹیسٹ میں بھی شوگر کا اظہار ہوتا ہے ایسے میں جو نہی انسولین کو علاج کیلئے تجویز کیا جاتا ہے تو رد عمل کے طور پر غذا ہضم ہونی شروع ہو جاتی ہے جسم توانائی محسوس کرتا ہے اور شوگر کا لیول کنٹرول ہو جاتا ہے ایسے میں یہ تصور کر لیا گیا ہے کہ لبلبہ نے انسولین پیدا نہیں کی اور خراب ہو گیا لیکن یہ تصور منی بر حقیقت نہ ہے یا درکھیں لبلبہ ایک قدرتی عضو ہے شین نہیں اور جسم کی قدرتی ضرورت کے مطابق انسولین پیدا کرے گا اور یہ تب ہو گا جب ایک ٹھوس غذا کھانے کے بعد اگلا غذائی وقفہ کم از کم 6 گھنٹہ کے بعد ہو اتنی دیر میں لبلبہ جسم کو دینے کیلئے یا غذا کو ہضم کرنے کیلئے قدرتی انسولین پیدا کر چکا ہو گا اور ہرگز ہرگز غیر قدرتی انسولین کی جسم کو ضرورت نہ ہوگی اور نہ ہی شوگر کے اثرات جسم میں موجود ہونگے یہ تب ہو گا جب دافع تیزابیت قدرتی اور خالص غذائیں استعمال کی جائیں گی جس سے غذا کا گلوکوز میں بدلنے کا وقفہ 6 گھنٹہ کے بعد ہوگا یا درکھیں غیر قدرتی انسولین سے غذا کو ہضم کروانا ایسا فعل ہے جیسا چورن چٹنیوں سے حد سے زیادہ غذا کھا کر ہضم کروانے کی کوشش ہے Appetizer انسولین یا چورن چٹنیوں سے ہضم کی گئی غذا کبھی بھی جسم کا حصہ نہیں بنتی بلکہ جسم میں فساد اور غلیظ مواد پیدا کرتی ہیں جب تک جسم سے بذریعہ خالص غذا کے ذریعے تیزابیت کو کنٹرول نہ کیا گیا اور غذا کو انسولین کے ذریعے ہضم کرنے کی کوشش کرتے رہے تو خون میں تیزابیت اور غیر قدرتی انسولین کے افراط سے خون انتہائی متعفن ہو جاتا ہے جسم پر گندے زخم بن جاتے ہیں اور انسولین بھی کام نہیں کرتی اور زندہ انسان کے ہاتھ پاؤس کٹنے شروع ہو جاتے ہیں یہی نقطہ سمجھے اور سمجھنانے کا ہے کہ لبلبہ کبھی خراب نہیں ہوسکتا بشر طیکہ اسے ایک ٹھوس غذا کھانے کے بعد کم از کم 6 گھنٹہ کا وقفہ دیا۔ جائے کہ وہ قدرتی انسولین پیدا کر سکے۔

Product
Verified