شوگر پیدا ہونے کے بارے میں میڈیکل یا طبی ماہرین ان عوامل کا شدت سے بذریعہ مائیکر و سکوپ روزانہ جائزہ لے رہے ہیں جیسے اللہ نہ کرے کوئی بیرونی مواد جسم پر حملہ آور ہو کر شوگر پیدا کر رہا ہے یا کوئی جراثیمی مادہ جسم پر اثر انداز ہوا ہے اس کو دور کر کے شوگر سے چھٹکارا یا نجات ممکن ہو جائے گی یعنی اس مرض سے نجات کے لیے تحقیقات بالکل الٹی سمت میں جا رہی ہیں جسکا نتیجہ کبھی بھی مثبت نہ نکلے گا تمام تحقیقات میں اسی پہلو جو کہ بالکل سائنسی علمی اور روز مرہ کے مشاہدے سے بھر پور ہے کہ شوگر صرف اور صرف تیزابیت کی پیدوار ہے جب تیزابیت ایک حد سے زیادہ ہوتی ہے تو کھائے جانے والے پروٹین کو فوری طور پر گلو کوز میں تبدیل کر کے جسم کو کوئی فائدہ پہنچائے بغیر جسم سے خارج کر دیتی ہے جسم انسانی روزانہ کھائی جانے والی غذا سے متاثر ہوتا ہے غذا سے خون و دیگر مفید اجزا بنتے ہیں جس سے جسم نشو و نما پاتا ہے فطری طور پر ہر جاندار روزانہ غذا کھا تا ہے۔ دوائیں کھانا غیر فطری عمل ہے وہ تمام غذائیں جن میں تیزابیت کی بھر پور تیزابیت پیدا ہوتی ہے جو کہ باعث شوگر ہونے کے علاوہ پورا جسمانی نظام خراب کر دیتی ہیں ہم تیزابیت والی غذا کے ساتھ تیزابیت دور کرنے والی غذا استعمال نہ کرتے ہیں مثلا گوشت جو کہ برائلر نہ ہو ہمیشہ اصلی گھی یا مکھن میں پکائیں کیونکہ چربی یا اصل گھی گوشت میں تیزابیت کو نارمل کر کے صحت کے لیے مفید کر دیتا ہے دودھ کو بالائی اُتار کر پینے کا مشورہ دیا جاتا ہے دنیا کی ہر تیزابیت کا ذائقہ کھٹا ہوتا ہے اور ہر کھٹی چیز پر ہمیشہ نمک لگایا جاتا ہے جیسے ہی کھٹی چیز مثلا انڈہ، لیموں، مالٹا وغیرہ پر نمک لگایا جاتا ہے تو وہ فوری طور پر میٹھی ہو کر کھانے کے قابل ہو جاتی ہے جبکہ نمک کو جدید دور کے کم علم طبی ماہرین نے زہر کا درجہ دے دیا ہے یادر کھیں دودھ گھی مکھن شہد چربی بادام انگور پپیتہ خربوزہ خوبانی آلو بخارا آم سیب سب کے سب نمک کے سٹور ہیں اور تیزابیت کو دفع کرنے میں لاجواب ہیں ان کے استعمال سے شوگر کینسر جگر کے امراض معدہ کے امراض کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کیا جا سکتا ہے۔ نمکین غذاؤں کے استعمال سے جسم میں مٹھاس بڑھتی ہے جسم میں سکون اور نرمی پیدا ہوتی ہے خون بنتا ہے عمر طویل ہوتی ہے شوگر کی مقدار قدرتی لیول پر خود بخود آجاتی ہے مٹھاس یا کھٹاس کی جسم کو کس قدر ضرورت جسم کا خود کار سسٹم ضرورت کے مطابق آگاہی دیتارہتا ہے کہ جسم کو کس غذا کی ضرورت ہے کھٹاس کھانے کو دل کرے تو کھٹاس لے لو مٹھاس کھانے کو دل کرے تو میٹھا لے لو پانی کی کمی پر پیاس کا احساس غذا کی کمی پر بھوک کا احساس یہ سب قدرتی عوامل ہیں جبکہ ہم بغیر بھوک کے غیر قدرتی غذا کھاتے ہیں بغیر پیاس کے حد زیادہ پید اپیتے ہیں جدید طبی ماہرین نے ہر قسم کی مٹھاس دودھ گھی مکھن شہد انگور کو زہر کا درجہ دے رکھا ہے اور غیر فطری غذائیں چکن آلو بناسپتی کو تریاق بنا دیا ہے اس طرح کامل صحت کا حصول ایک خواہش بن کر رہ گئی ہے صرف تیزا بیت بذریعہ قدرتی غذا کنٹرول کر لیں شوگر تو کیا کوئی مرض بھی نہ رہے گا یہ میرا دعویٰ نہیں بلکہ چیلنج ہے۔