شوگر کے مرض کا خاف پیدا کر کے اس بے دردی سے پوری دنیا کے عوام کو گمراہ کر کے لوٹ مار کی گئی ہے اور صحت کے ساتھ اس قدر ظلم اور بربریت ہوئی ہے جس کی مثال طب کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ دنیا ہلاکو خان ، چنگیز خان اور ہٹلر کے ظلم اور قتل سے تو واقف ہے کہ کس نے کتنے بندے قتل کیے اور ہم ان اشخاص کا ظالم اور قاتل کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن شوگر کا مرض پیدا کرکے خوف پیدا کرکے اور شوگر کو لا علاج ہونے کا فتوی دے کر اس قدر نے گناہ انسانیت کا قتل کیا گیا ہے اور کیا جا رہا ہے جس کی مثال آج کے مہذب دور میں نہیں ملتی۔ ہم اس گناؤنے فعل کا مہذب قتل کا نام دے سکتے ہیں۔ گوگل کی مدد سے ایسا تمام ریکارڈ تلاش کیا جا سکتا ہے۔ پہلی تحقیق شوگر کی میڈیکل سائنس کے آئینے میں یہ تھی کہ شوگر کی مقدار 250 تا 300ملی گرام تک ہو تو یہ مریض شوگر کا مریض شمار نہ ہوگا۔ جیسے ہی ان اعداد کا واویلا ہوا تو لاکھوں مریض جو کہ شوگر کے نام پر میڈیسن کھا کھا کر دجالی طاقتوں اور میڈیسن انڈسٹری کو فائدہ دے رہے تھے۔ خود کوبہتر محسوس کیا اور ادویات کا استعمال بند کر دیا اور صحت مند زندگی گزارنا شروع کردی جس کے ساتھ ہی میڈیکل انڈسٹری کا روبار متاثر ہو گیا۔ ادویات کی فروخت کم ہو گئی تو ان منفی طاقتوں نے پھر سر جوڑ لیے اوراعداد کے ہیر پھیر سے 120 ملی گرام یا کم و بیش کی مقدار متعین کی جس کی وجہ سے جن لوگوں کو شوگر نہیں بھی تھی و ہ بھی زبردستی شوگر کے مریض قرار دیے گئےا ور شوگر کی ادویات کھانے پر مجبور کر دیے گئے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ آج کا ہر بندہ کیمیکل والی غذائیں کھانے پر مجبور ہے جس سے بے پناہ بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اور علاج کے نام پر کیمیکل پر مشتمل دوائیں کھانے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ جس سے نہ صرف خون میں فساد بنتا ہے بلکہ مزید خوفناک قسم کی بیماریوں اور جسمانی پیچیدگیوں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ جلد ہی مریض اللہ کو پیارا ہو جاتا ہے اور صحت کا اعزاز جدید معالج کو مل جاتا ہے۔ یقین رکھیں کہ اگر آپ شوگر کے مریض ہیں اور آپ کی شوگر 300 سے 400 ملی گرام تک بھی ہے تو آپ شوگر کی ادویات فوری طور پر ترک کرکے ہماری دی گئی قدرتی ہدایات غذا پر عمل شروع کر دیں تو آپ کو ایسا محسوس ہوگا کہ آپ کو یہ مرض تھا ہی نہیں۔ اس مکروہ دھندے اور غلط حقائق سے میڈیکل انڈسٹری کے اکابرین اور اچھے معالج بخوبی واقف ہیں لیکن لالچ نے منہ بند کیا ہوا ہے۔